ابنا: غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی نابودی کا وقت دور نہیں جب قبلہ اول بیت المقدس پر پرچم حق لہرائے گا، مشرق وسطی میں آنے والی یہ بیداری کی لہر آزادی بیت المقد س پر ہی ختم ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے امامیہ اسٹوڈنٹسّ رگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے نمائش تا تبت سینٹر نکالی جانیوالی’’ مرکزی آزادی القدس ریلی‘‘ میں تبت سینٹر پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مقررین میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید رحمان شاہ، شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا ناظر تقوی، معروف عالم دین مولانا باقر زیدی ، مجلس وحدت المسلمین اور شیعہ ایکشن کمیٹی کے مولانا مرزا یوسف حسین ، تحریک اہلحدیث کے علامہ عبداللہ عازی، مولانا احمد اقبال اور مولانا مرتضی زیدی نے خطاب کیا جبکہ طلبہ تنظیموں کے نمائندگان بھی جلسے میں شریک تھے ۔ ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین، بزرگوں اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبلہ اوّل بیت المقدس کی آزادی اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی نابودی تک صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔ آزادی القدس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر برادر سید رحمان شاہ نے کہاکہ وہ دن دور نہیں کہ جب یہ دنیا اسرائیل کے ناپاک وجود سے پاک ہوگی، اللہ کا وعدہ ہے ’’بیشک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘ ،ہم نے قرآن کی اس آیت کا مصداق لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کی کامیابی کی صورت میں دیکھ لیا ہے، امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی بدولت عالم اسلام آج اپنے اہم ترین مسئلے یعنی بیت المقدس کی آزادی کی طرف پلٹ چکا ہے، اور انشاء اللہ امت مسلمہ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی با بصیرت قیادت میں بیت المقدس کو صیہونی قبضے سے نجات دلائے گی، انہوں نے گذشتہ بر س یوم القد س کی ریلی میں کوئٹہ میں ہونے والی دھشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے شہداء قدس کو خراج تحسین پیش کیا۔ عالم دین مولانا مرتضی زیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے وہاں پر ہیکل سلیمانی بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ قابل مذمت امر یہ ہے کہ ان تمام امور میں بے غیرت عرب و دیگر مسلم حکمران اپنی امریکی غلامی اور اسرائیل دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے رہے۔مگر خطہ عرب میں عوام میں اسلامی بیداری ان عرب حکمرانوں کی نیندیں حرام کردیں ہیں،اور اب وہ وقت دور نہیں کہ خدا کے احکام کا مذا ق بنانے والے یہ عرب حکمران اپنے انجام تک پہچیں گے، اور کچھ کا انجام ہم دیکھ چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
قراردادیں1۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی یوم القدس کو حکومتی سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے۔2۔ یہ اجتماع رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو اپنا رہبر حقیقی سمجھتا ہے اور ان کے فرمان پر لبیک کہنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔3۔ آج کا یہ اجتماع بیت المقدس کو مسلمانوں کا قلب سمجھتا ہے اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وجود کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتا۔4۔ یہ اجتماع عرب لیگ اور دوسرے اسلامی ممالک سے اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ امریکی غلامی کو ترک کرکے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں واضح مؤقف اختیار کریں۔5۔ یہ عظیم الشان اجتماع مشرق وسطیٰ اور وسطی افریکی مملک اور خصوصاً بحرین میں اسلامی بیداری اور آزادی کی لہر کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔6۔ یہ اجتماع وطن عزیز میں امریکی مداخلت کے بعد بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، خودکش حملوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔7۔ یہ اجتماع پاکستان میں بلیک واٹر جیسی بدنام زمانہ تنظیم کی موجودگی اور امریکی سفیر کمیرون منٹرکی بڑھتی ہوئی خفیہ سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ تصور کرتا ہے۔8۔ آج کا یہ اجتماعی گذشتہ برس یوم القدس پر شہید ہونے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
/110